پر لطف

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بامزہ، لطیف۔ 'محبوب کی ہر بات پُرلطف ہوتی ہے۔"      ( ١٩٦٤ء، غالب کون ہے، ١٨٢ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ صفت 'پُر' کے ساتھ عربی اسم مجرد 'لطف' بطور صفت لگنے سے مرکبِ توصیفی بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٩٢٤ء کو 'غالب کون ہے" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بامزہ، لطیف۔ 'محبوب کی ہر بات پُرلطف ہوتی ہے۔"      ( ١٩٦٤ء، غالب کون ہے، ١٨٢ )